ایک ضروری وضاحت
اپنوں سے کچھ باتیں
حضرت مولانا فضل محمد یوسف زئ دامت برکاتہم العالیہ ۔
اساذ الحدیث جامعہ بنوریہ ٹاون کراچی !
۱ ) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من انفق نفقۃ فی سبیل اللہ کتب لہ بسبعماۃ ضعف ( رواہ الترمذی والنسائ۔ مشکوۃ)
ترجمہ: رسول اللہ علیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جوشخص اللہ راستے جہاد میں اپنے مال میں سے جوکچھ خرچ کریگا اس کیلیے سات سو گنا ثواب لکھا جائیگا ۔
![]() |
۲ ) قال علیہ السلام من ارسل نفقۃ فی سبیل اللہ واقام فی بیتہ فلہ بکل درھم سبعماۃ درھم ومن غزا بنفسہ فی سبیل اللہ وانفق فی وجھہ فلہ بکل درھم سبعماۃ الف درھم ۔
ترجمہ : اللہ کے نبی علیہ السلام نے فرمایا جس نے اللہ کی راہ ( جہاد) میں روپیہ پیسے بھیجا اور خود اپنے گھر میں بیٹھا رہا ( شریک نہ ہوا ) تو اسکیلیے ہر درھم کے بدلے سات سو درھم کاثواب ملے گا اور جس نے خود جہاد بھی کیا اور مال بھی خرچ کیا تو اس کیلیے ہردرھم کے بدلے سات لاکھ درھم کا ثواب ملے گا ۔
بعض لوگ ( تبلیغی جماعت کے علماء ) ان دو حدیثوں سے انچاس کروڑ کا ثواب نکالتے ہیں ۔
آپ حضرات ان دونوں حدیثوں کو دیکھیے " کتاب الجہاد " کی ہیں اور دونوں حدیٖثوں میں جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کرنے کا ذکر ہے اس سے بعض حضرات ( تبلیغی علماء ) انچاس کروڑ کا ثواب نکالتے ہیں ۔
اگر یہ حدیثیں خاص ہیں ( قتال فی سبیل اللہ کیلیے ) تو یہ ثواب صرف مجاھدین کو ملنا چاہیے یا ان کے معاونین کو ملنا چاہیے ، اور محدثین نے اپنے اصول اور ضوابط کے مطابق
کتاب الجہاد کے عنوان میں ان دونوں حدیثوں کو درج کرکے مجاہدین کے ساتھ خاص کیا ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ جہاد بالسیف کیلیے خاص ہیں ،
اور اگر ان سے اللہ کا راستہ عام مراد لیا جاے تو پہر یہ ثواب ہر اس شخص کو ملنا چاہیے جو کسی بھی حوالہ سے اللہ تعالی کے راستہ میں ہو مثلاً ۔ حاجی ، طالب علم ، عالم ، قاری ، مجاہد ، نمازی ، داعی ، مسجد کی تعمیر کرنے والا ، رفاہی کام کرنے والا صوفی ،عابد ، وغیرہ وغیرہ ۔
( پھر جہاد اور ان سب میں کیا فرق رہ جائیگا سب کے سب برابر ہوجائیگے جب سب برابر ہوگئے تو آدمی جہاد میں کیوں جائیگا جب اسے آپ گھر بیٹھے ہی اتنا ثواب دلارہے ہو ،محض نماز پر ، عبادت پر ، حج پر ، علم پر ، ذکر پر ، تلاوت پر ، دعوت پر ، یہ تو ایک طرح سد باب ہوگا جہاد شرعی سے )
افسوس صد افسوس
شب و روز یہ کہا جارہا ہے کہ اللہ کے راستے میں ایک خرچ کروگے انچاس کروڑ ملے گا اور اللہ کے راستے سے ایک مخصوص محنت ( تبلیغی جماعت) مراد لیتے ہیں بلکہ اب تو خواص کو بھی معلوم نہیں کہ اللہ کا راستہ اس مخصوص محنت ( تبلیغی جماعت) کے علاوہ بھی کوئ راستہ ہے ، ان کے عوام کے یہاں تصور بھی کسی دوسرے راستے کا نہیں ہے ۔
انچاس کروڑ کا ثواب ان دو حدیثوں میں ضرب دیکر حاصل کیا گیا ہے حالانکہ یہ خود محل اشکال ہے ?
کیوں کہ یہ دو الگ الگ حدیثیں دو قسم کے لوگوں کیلیے ہیں
۱) ایک قسم وہ لوگ ہیں جو جہاد کیلیے نہیں نکلتے ہیں بلکہ گھر سے کچھ روپیہ پیسہ مجاہدین کیلیے بھیجتے ہیں ، ان کے ثواب کو حضور علیہ السلام نے سات سو گنا بتایاہے ( ضعف) بمعنی ڈبل تو یہ سات سوگنا تک ہے ۔
اس جیسے عربی محارہ کلام میں مزید ضرب دینے کی گنجائش نہی ،
۲ ) دوسری حدیث میں دوسری قسم کے لوگ مراد ہیں ، جو خرچ بھی کرتے ہیں اور خود جہاد کے میدان میں شریک بھی ہوتے ہیں ، ان کےلیے حضور علیہ السلام نے سات لاکھ ثواب ارشاد فرمایا اب معلوم نہی کہ دو حدیثوں کو جوڑ کر اور پھر ضرب دیکر اس انچاس کروڑ کے عدد کو کیوں حاصل کیا گیا ہے ۔
اس میں کونسی مجبوری تھی کہ حدیث کا سمجھنا ہی جوڑے بغیر مشکل ہوگیا تھا فرض کرلو دونوں کو جوڑنابھی تھا تو پہر واضح مطلب یہ تھا کہ جانے والے کو سات لاکھ کا ثواب ملے گا اور بیٹھنے والے کا سات سو کا ثواب بھی ملے گا دونوں کا ملے گا تو گویا مجموعہ سات لاکھ سات سو ہوگیا ، لیکن یہ انچاس کروڑ کہاں سے آگیا؟ ؟؟؟؟؟
حقیقت یہ ہے یہ سب چیزیں اسلیے ہوئ کہ ایجادبندہ ترتیب کو ایک فریضہ سمجھاگیا اور لوگوں کویہی سمجھایاگیا حالانکہ بہت سارے طریقہ ہردور میں اصلاح وعمل کے ایجاد ہوے لیکن کسی نے بھی اپنے کام کو فریضہ جہاد نہیں کہا یہاں حال یہ ہے کہ مکمل فضیلت جہاد ہی یہ حضرات اپنے کام پر منطبق کردیتے ہیں جبکہ محدثیں نے کتاب الجہاد میں اس قسم کی روایات ذکر کرکے ان حدیثوں کو مجاھدین کےلیے خاص کردیا تھا پتہ نہیں انہوں نے بلادلیل کیوں اسے عام کردیا آج یہ غلطی اتنی عام ہوگئ کہ اصلاح ناممکن ہوچکی ہے ۔


سبحان اللہ
جواب دیںحذف کریںاللہ تعالیٰ حق گوئی و بےباکی کے لئے اپنے خاص بندوں کا انتخاب کرتا ہے قال النبی صلعم. کلمۃ حق عند سلطان جائر
جواب دیںحذف کریںماشاءاللہ ماشاءاللہ ماشاءاللہ
جواب دیںحذف کریںاسکو میسیج کی شکل میں گروپ میں عام کرنا چاہیے
جواب دیںحذف کریںبالکل کیجیے
جواب دیںحذف کریںMasha Allah shie frmaya
جواب دیںحذف کریں