انتہائ اقدام

 *حسرت اور غم کی داستاں*  



یہ جو بندگانِ نیاز ہیں ، یہ تمام ہیں وہ لشکری

جنہیں زندگی نے اماں نہ دی تو تیرے حضور میں آ گئے


وہ جو گیت تم نے سنا نہیں ، میری عمر بھر کا ریاض تھا

میرے درد کی تھی داستاں ، جسے تم ہنسی میں اڑا گئے


وہ چراغِ جاں کبھی جس کی لو  نہ کسی ہوا سے نگوں ھُوئی

تیری بیوفائی کے وَسوسے ، اُسے چپکے چپکے بجھا گئے 


حالات کی چکی بعض دفعہ آہنی جسم انسان کوبھی اتنامجبور کردیتی ہے کہ وہ زندگی کی بازی ہارنے کو تیار ہو جاتاہے انسان کتناہی مضبوط کیوں نہ ہوحالات کاشکنجہ جب اسے دبوچتاہے تواسکے اعصاب جواب دے جاتے ہیں پیہم آزمائش ، نفرت ، ظلم ، ایک اچھے خاصے انسان کوجیتے جی ماردیتے ہیں اور جب بات ایک معصوم کلی کی ہو جودنیامیں اسلیے کھلی تھی کہ ماں باپ بہن بھائ رشتہ دار ہرایک کو اپنی مسکراہٹ سے راحت پہنچاے سکون کے پھول  نچھاور کرے ظلم پرظلم کاجواب خندہ پیشانی مسکراتے چہرے سے دے  آخر اچانک اس معصوم کلی کو کیاہوجاتاہے کہ دنیاسے روٹھ جاتی ہے  ایسا کونسا  ستم اس پر  کیاجاتاہے جس کی تاب نہ لاکر وہ موم جیسی نرم اور پھول جیسی خوشبودار کلی مرجھانے کی قسم اٹھالیتی ہے اور ہزارمنتوں  کے باوجود اسے زندگی سے نفرت اور موت سے محبت ہوجاتی ہے ماں اور باپ کے آنسوبھی اس کے رستہ میں حائل نہیں ہوپاتے ہرکسی کوفراموش کرنااس کا اولین مقصد بن جاتاہے اور بالآخروہ مظلومہ مسلسل ستم سے بچنے کا راستہ موت تلاش لیتی ہے اور اپنے آپ کو سمندر کی لہروں کے حوالہ کرکے شہرخموشاں چلی جاتی ہے اور اس دنیا کے باشندوں کو پیغام دیجاتی ہے موت کی سختی تک آپ حضرات کے ظلم سے کم ہے زبان حال سے اپنے آخری ویڈیومیں اس مظلومہ نےگویایوں کہا 


‏تم نے دیکھے ہیں کبھی ؟؟

 درد کو سہتے ہوۓ لوگ

 بھیگی آنکھوں سے

 سب اچھا ہے کہتے ہوۓ لوگ


یقیناً شرعاً خودکشی حرام ہے ناامیدی کفر ہے یہ اللہ اور اس بندی کا معاملہ ہے وہ دونوں آپس میں جانے ہم لب کشائ کے مجاز نہیں ! لیکن یہ دردناک واقعہ ہمارے در میان ایک نمونہ ہے مردوں کے ظلم  کا ، آج اس کا وجود زندہ نہ رہالیکن اس پر ہونے والاظلم ابھی بھی زندہ ہے یہ واقعہ ان مردوں کیلیے عبرت کانشان ہے جوعورتوں کوظلم وجبر اوربے مروتی کاشکاربناتے ہیں جنہیں اپنی حرص ایسااندھاکرتی ہے کہ صنف نازک کی نفسیات ، احساسات ، اسکی عزت وناموس   ہرچیز کوفراموش کرلیتے ہیں ایک انسان کی جان سے زیادہ انہیں پیسہ اور روپییہ پیاراہوتاہے وہ دنیاکے پجاری ہوتے ہیں جو قدم قدم پر نازک جسم عورت پر ستم کے ایسے پہاڑ ڈھاتے ہیں جن کی تاب مضبوط جسم بھی برداشت نہیں کرسکتے  گزشتہ کل  احمد آباد گجرات کی عائشہ نامی لڑکی  کی خودکشی اور موت  ایسے ہی ایک سنگین ظلم کی داستان ہے یہ صرف ایک عائشہ نہیں ایسی ہزاروں عائشہ موت کی نیند سوچکی ہے اور لاکھوں مائیں اور بہنیں مردوں کے ناجائزمطالبات کی بھینٹ چڑھنے کے باوجود صبرایوب کی مثال بنی ہوئ ہیں ایسی ایسی واردات حریص مردانجام  دیتے ہیں جنہیں سن کر دل وجگر پھٹ جاتاہے  اور اپنے آپ سے نفرت ہوجاتی ہے کہ آج ہم کیسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں احساسات ختم ہوچکے ہیں نرم نازک لب ولہجہ والی دوشیزہ کیلیے جہاں کی زمین تنگ ہوچکی ہے ہوس کے پجاری توہزاروں  ہیں لیکن یہاں اور زیادہ افسوس اس بات پر ہے کہ خاوندجیسے القاب رکھنے والے حضرات بھی آج مغربی تہذیب کے دلدادہ بنے عورت  پر ظلم کے پہاڑ توڑرہے ہیں جس عورت نے تمہیں بطور شوہر منتخب کیا اپنے سارا کنبہ اور خاندان اپنی محبتیں چھوڑکرآپ کے گھر آبسی اس کی اتنی بڑی قربانی کے باوجود بھی خاونداگراسے ظلم کانشانہ بناے پل پل اسے تختہ مشق بناے ایسی حالت میں ایک مضبوط اعصاب والی لڑکی ہی صبرکرسکتی ہے آخر اس معاشرہ میں یہ سب کیوں ہوتاہے؟  اور اگر ہوتاہے توآخران مظالم کاحل کیا ہے؟؟؟  

صالح معاشرہ خلافت اسلامیہ میں ہے 

کونسی ایسی دنیا ہوگی جہاں یہ بے سہارا لڑکیاں سکون کاسانس لے سکتی ہے؟  

اس جمہوریت کے خوں آشام سایہ تلے تو کوئ ایسی پرسکون فضانہیں ہے یہاں توہروقت عفریت پنجہ گاڑے معصوموں کے خون کی ہولیاں کھیلتے نظرآتے ہیں یہاں انصاف انصاف چیختے ہزاروں معصوم جاں بلب ہوچکے ہیں آج ہمیں ایک ایساجہان چاہیے جہاں انسان کی قدروقیمت پیسہ ، ہوس  ، مال دولت ، ہرچیز سے زیادہ ہو جہاں انسان کی اہمیت اور حوصلہ افزائ ہنرسمجھی جاتی ہو جہاں پورے معاشرے میں کوئ اجنبی کوئ غریب کوئ مفلس کوئ مظلوم نہ ہو یہ جہانصرف اور صرف خلافت اسلامیہ میں ہوسکتاہے جہاں عدل وانصاف کاایسامعتدل نظام ہوتاہے کہ پورے معاشرہ میں کوئ مظلوم نہیں ہوتا کسی کی مجال نہیں معصوم کی عزت پر ہاتھ ڈال سکے وہاں بندگان توحید اپنے صاف شفاف سینہ میں ایساپاکیزہ دل رکھتے ہیں جس دل میں ہمدردی وغمخواری کمزوروں پر ترس اور معصوموں کی حفاظت بسی رہتی ہے اس دل کی دھڑکنیں انصاف کی گواہ ہوتی ہے آج اس نظام عدل وانصاف کوقائم کرنے کی ضرورت ہے یہی واحد راستہ ہے ہرقسم کے ظلم وتشدد سے بچنے کا امت مسلمہ کو اس سمت توجہ دینالازمی ہوچکاہے تمام مسلمانوں پر ایسی خلافت کاقیام واجب ہے   چونکہ مظلومہ نے شرعاً ایک حرام کام کاارتکاب کیاہے جودین اسلام میں سخت ناپسندیدہ ہے ہم تمام مسلمانوں  سے گزارش کریں  گے ہرحال میں امیدکادامن  مت چھوڑئیے  اللہ نے ناامیدی  کوکفرکہاہے یہ عارضگی زندگی اجڑتی ہے تواجڑجاے لیکن آخرت کی ہمیشہ کی زندگی ہرگزہرگز داوپہ مت لگائیے خودکشی کے  بارے میں چند باتیں پڑھتے ہیں تاکہ آئندہ کوئ یہ جرم کرنے سے پہلے  ان چیزوں کو ملحوظ رکھے ۔


وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ إِنَّ اللّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًاo وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللّهِ يَسِيرًاo

’’اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بے شک اﷲ تم پر مہربان ہےo اور جو کوئی تعدِّی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو ہم عنقریب اسے (دوزخ کی) آگ میں ڈال دیں گے، اور یہ اﷲ پر بالکل آسان ہےo‘‘ ( النساء، 4: 29، 30 )


امام فخر الدین رازی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:

{وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ} يدل علی النهی عن قتل غيره وعن قتل نفسه بالباطل.

’’{اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو}۔ یہ آیت مبارکہ کسی شخص کو ناحق قتل کرنے اور خودکشی کرنے کی ممانعت پر دلیل شرعی کا حکم رکھتی ہے۔‘‘ ( رازی، التفسير الکبير، 10: 57 ) 

مزید برآں امام بغوی نے ’’معالم التنزيل (1: 418)‘‘ میں، حافظ ابن کثیر نے ’’تفسير القرآن العظيم (1: 481)‘‘ میں اور ثعالبی نے ’’الجواهر الحسان في تفسير القرآن (3: 293)‘‘ میں سورۃ النساء کی مذکورہ بالا آیات کے تحت خود کشی کی حرمت پر مبنی احادیث درج کی ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ائمہ تفسیر کے نزدیک بھی یہ آیات خود کشی کی ممانعت و حرمت پر دلالت کرتی ہیں۔

احادیث مبارکہ میں بھی خود کشی کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

فَإِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ لِعَيْنِکَ عَلَيْکَ حَقًّا.

’’تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے۔‘‘

( بخاری، الصحيح، کتاب الصوم2: 697، رقم: 1874) 

اس حدیث سے واضح طور پر اپنے جسم و جان اور تمام اعضاء کی حفاظت اور ان کے حقوق ادا کرنے کی تلقین  ثابت ہوتی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کشی جیسے بھیانک اور حرام فعل کے مرتکب کو فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّی فِيْهِ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيْهَا أَبَدًا (وہ دوزخ میں جائے گا، ہمیشہ اس میں گرتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا) فرما کر دردناک عذاب کا مستحق قرار دیا ہے۔

عن أبي ھریرة رضي اللہ تعالی عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من تردی من جبل فقتل نفسہ فھو في نار جھنم یتردی فیھا خالدًا مخلدًا فیھا أبدًا․ الحدیث (مشکوٰة: ج۲، ص۲۹۹) 

 حدیث مذکور میں خودکشی کی مختلف صورتوں کا ذکر فرماکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا کہ وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیش رہے گا۔ اور اسی عذاب میں مبتلا رہے گا، جس عمل کے ذریعہ اس نے خودکشی کی ہے۔ صاحب مرقاة المفاتیح لکھتے ہیں کہ اگر اس عمل کے ذریعہ خودکشی کو حلال سمجھتے ہوئے اس نے کیا ہے تب ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہنے کی سزا ہے یا خلود سے مراد طویل مدت ہے۔ اس لیے اگر مباح سمجھ کر نہیں کیا ہے تو امید ہے کہ اللہ تعالی اس کو معاف کردیں اور بعد سزا جنت میں داخل کردیں۔ یادماغی خلل اس کا باعث رہا ہوتو بھی معافی دیجائیگی  ۔

ہمیں اتناعقیدہ بنانالازمی ہے یہ جسم اللہ کی امانت ہے اس کوخود سے ہلاک کرناحرام ہے   یہاں ایک بات ذہن نشیں  رہے خودکشی کرناگناہ کبیرہ ضرور ہے لیکن خود کشی کرنے والے کیلیے دعاے مغفرت جائز ہے وہ مسلمان ہی رہتاہے    لہذا ہم دعاکرتے ہیں اللہ  رب العزت  عائشہ نامی مرحومہ کی مغفرت کاملہ فرماے ۔

تبصرے

  1. اللہ ایسے انسان نما بھیڑیوں سے معاشرہ کو پاک فرمائے اور پاکیزہ معاشرہ کی تشکیل کیلئے ہمیں قبول فرمائے آمین

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آج دعوتِ دین کاشرعی حکم

ایک ضروری وضاحت