اشاعتیں

یاد رکھاجائیگا

تصویر
  بیتی یادیں   آج کا دن اہل خانہ ہی نہیں اہل دیوبند کے لئے ایک سانحہ  کی طرح یاد رکھا جائگا ۔جد امجد ، مشفق دادا ہم سب کے ابا جی اور معروف عالم دین حضرت مولانا قاری طیب  صاحب رحمت للّٰہ علیہ  کی  بیرونی نشست گاہ کو آج منہدم کیا جا رہا ہے ۔  اس یادگار عمارت کو توڑ کر یہاں  ایک بازار بنایا جائگا ۔  دروازہ کے سامنے کھڑے ہوکر عمارت کے انہدام کا یہ نظارہ دیکھنے والے لوگوں کے دلوں کا حال انکے چہروں اور ڈب ڈبائ ہوی آنکھوں سے عیاں ہے ۔ مسلسل آنے والے فون لوگوں کی تاثرات کے غماز ہیں ۔  آج کا دن  ان کے لئے ایک سانحہ ہے ۔  دیوبند میں ہی نہیں بلکہ حضرت کے خاص حلقہ اورعمومی طور پرمدرسہ  سے  وابستہ لوگوں کے درمیان  یہ جگہ عرف عام میں   بیٹھک کے نام سے جانی  جاتی تھی۔  نہ صرف  دیوبند کی شناخت کا اہم جز بلکہ دارالعلوم دیوبند آنے والے لوگوں کے لئے بھی ایک متبرک مقام کی حیثیت رکھتی تھی کہ یہاں سے علم کا ایک ایسا دور شروع ہوا تھا جو کہ کئ دہائیوں تک جاری و ساری  رہا اور جس کے طفیل سے دین اور عمل ک...

انتہائ اقدام

تصویر
 * حسرت اور غم کی داستاں*   یہ جو بندگانِ نیاز ہیں ، یہ تمام ہیں وہ لشکری جنہیں زندگی نے اماں نہ دی تو تیرے حضور میں آ گئے وہ جو گیت تم نے سنا نہیں ، میری عمر بھر کا ریاض تھا میرے درد کی تھی داستاں ، جسے تم ہنسی میں اڑا گئے وہ چراغِ جاں کبھی جس کی لو  نہ کسی ہوا سے نگوں ھُوئی تیری بیوفائی کے وَسوسے ، اُسے چپکے چپکے بجھا گئے  حالات کی چکی بعض دفعہ آہنی جسم انسان کوبھی اتنامجبور کردیتی ہے کہ وہ زندگی کی بازی ہارنے کو تیار ہو جاتاہے انسان کتناہی مضبوط کیوں نہ ہوحالات کاشکنجہ جب اسے دبوچتاہے تواسکے اعصاب جواب دے جاتے ہیں پیہم آزمائش ، نفرت ، ظلم ، ایک اچھے خاصے انسان کوجیتے جی ماردیتے ہیں اور جب بات ایک معصوم کلی کی ہو جودنیامیں اسلیے کھلی تھی کہ ماں باپ بہن بھائ رشتہ دار ہرایک کو اپنی مسکراہٹ سے راحت پہنچاے سکون کے پھول  نچھاور کرے ظلم پرظلم کاجواب خندہ پیشانی مسکراتے چہرے سے دے  آخر اچانک اس معصوم کلی کو کیاہوجاتاہے کہ دنیاسے روٹھ جاتی ہے  ایسا کونسا  ستم اس پر  کیاجاتاہے جس کی تاب نہ لاکر وہ موم جیسی نرم اور پھول جیسی خوشبودار کلی مرجھانے...

ایک ضروری وضاحت

تصویر
 اپنوں سے کچھ باتیں      حضرت مولانا فضل محمد یوسف زئ دامت برکاتہم العالیہ ۔ اساذ الحدیث   جامعہ بنوریہ ٹاون کراچی  ! ۱ )  قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  من انفق نفقۃ فی سبیل اللہ کتب لہ بسبعماۃ ضعف    ( رواہ الترمذی والنسائ۔  مشکوۃ)  ترجمہ:  رسول اللہ علیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جوشخص اللہ راستے جہاد   میں اپنے مال میں سے جوکچھ خرچ کریگا اس کیلیے سات سو گنا ثواب لکھا جائیگا  ۔  ۲ )  قال علیہ السلام من ارسل نفقۃ فی سبیل اللہ واقام فی بیتہ فلہ بکل درھم سبعماۃ درھم ومن غزا بنفسہ فی سبیل اللہ وانفق فی وجھہ فلہ بکل درھم سبعماۃ الف درھم  ۔ ترجمہ :   اللہ کے نبی علیہ السلام نے فرمایا جس نے اللہ کی راہ  ( جہاد)  میں روپیہ پیسے بھیجا اور خود اپنے گھر میں بیٹھا رہا ( شریک نہ ہوا )  تو اسکیلیے ہر درھم کے بدلے سات سو درھم کاثواب ملے گا اور جس نے خود جہاد بھی کیا اور مال بھی خرچ کیا تو اس کیلیے ہردرھم کے بدلے سات لاکھ درھم کا ثواب ملے گا  ۔ بعض لوگ ( تبلیغی ج...

آج دعوتِ دین کاشرعی حکم

تصویر
آج کے دور میں دعوتِ دین کاشرعی حکم ! تیسری قسط ! گزشتہ قسطوں میں ہم نے واضح کیاتھا کہ دعوتِ دین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین پر مختلف درجات میں فرض ہوئ تھی مکہ مکرمہ میں فرضِ عین  اور انفرادی اور مدینہ منورہ میں فرضِ کفایہ اور اجتماعی آج کی قسط میں ہمارا مقصود اس دور میں دعوتِ دین کاشرعی درجہ واضح کرنا ہے اگرآپ نے پچھلی قسطیں ملاحظہ  فرمائ ہوگی تویہ بات آپ جان چکے ہوں گے کہ مدینہ منورہ میں جہاد ہی دعوت کی جدید شکل تھی اور ہم نے یہ بھی واضح کیاتھا کہ جہاد سے قبل بطوراتمامِ حجت چنددعوتی کلمات پیش کیے جاتے تھے تاکہ اگروہ قوم مسلمان ہوجاے توامن وامان سے خلافت کا قیام ہوسکے ان کلمات کی مختصر تشریح پچھلی قسط میں ہم نےبیان کی تھی  انہیں کلمات سے حجت پوری ہوتی ہے اور اسی کودعوت کہتے ہیں اس کے بعد ہی اس قوم پر حملہ آور ہونادرست ہوتاہے سوال یہ پیدا ہوتاہے کی جودعوت جہاد سے پہلے کفار کودینی ہوتی ہے کیاآج کے دور میں ہم پر وہ دعوت فرض ہیں؟  اور اگر ہم لشکری شکل میں کہیں حملہ آور نہ ہو اپنی عبادات اور کسی دینی کام میں مصروف ہیں جہاد نہ کررہے ہ...

مدینہ میں دعوت دین کاشرعی حکم

تصویر
مدینہ منورہ میں کلماتِ دعوت اور مقصدِ   دعوت کیاتھا  غلط فہمیوں کاازالہ!! قسط دوم   !  مکہ میں دعوتِ توحید کے سلسلہ میں مختصر وضاحت ہم نے  پچھلی قسط میں بیان کی تھی کہ وہاں کفار کو دعوت دینافرض عین تھا اسلیے کہ وہاں اسلام کا ابتدائ دورتھا افراد بالکل نہیں تھے چندافراد ضروری تھے جن کے ذریعہ شریعت اسلامیہ کی تمکین واستقرار کیاجاسکے چنانچہ مکہ میں ایک مختصرجماعت نے جب اسلام قبول کرلیا اور کفارکی ایک بڑی تعداد دینِ اسلام سے دشمنی کے درپہ ہوگئ تو اللہ رب العزت نے ہجرت کاحکم فرض فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرماکرمکہ سے مدینہ منورہ تشریف لے آے یہاں ایک اہم بات سمجھنی ضروری ہے کہ جب مسلمان مدینہ منورہ آگئے تو کیا مدینہ میں بھی اسی طرح دعوتِ توحید مسلمانوں پر فرض رہی یا کوئ اور معاملہ ہوا !! بظاہرسیرت کے مطالعہ سے یوں لگتاہے کہ حضرت نے مدینہ جاتے ہی سرایاارسال کرنے شروع کردئیے اور وہ دعوت جومکہ میں دیجاتی تھی یہاں بظاہراس طرز واسلوب میں دعوت دینے کا اہتمام نہیں کیاگیا یہاں فرضیتِ جہاد کےبعد  منظرہی کچھ اور نظرآتاہے کبھی سریہ بواط کالشکرنکل...

مکہ میں دعوتِ دین کاشرعی حکم

تصویر
مکہ مکرمہ میں دعوتِ اسلام کا شرعی حکم  قسط اول   ! قرآنِ کریم کے ا سلوبِ بیان اورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے  مکی ومدنی ادوار پر غورکرنے سے یہی نتیجہ نکلتاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دعوتِ دین مختلف درجات  میں فرض ہوئ مکہ میں دعوتِ اسلام کا درجہ کچھ اور تھا اور مدینہ میں کچھ اور  اور اس کے بعد امتِ مسلمہ پر دعوت کادرجہ کچھ اور ہوا اسی بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے آجکل امتِ مسلمہ کے بہت سارے افراد کو غلط فہمی ہوئ ہے اور وہ ہروقت دعوت اسلام کے ترک کا واویلا مچاتے ہیں اور یوں کہتے نظرآتے ہیں کہ ہم نے دعوت کا کام نہیں کیا اور جوحضرات یہ کام کرتے بھی ہیں وہ حضرات نہ کرنے والوں کو مورد الزام ٹہراتے ہیں آپ خودسوچیے آخراس فلسفہ دعوت کو سیرت کی روشنی میں اور فقہاءکرام کی مکتوبہ کتابوں کی روشنی میں کیا ہم نے سمجھنے کی کوشش کی ؟ اسی طرح اسلاف کی چودہ سوسالہ زندگیوں میں یہ دعوت کیا اسی طرح فرض سمجھی جاتی تھی؟    کیا ہم پربھی آج دعوت توحید فرض عین ہے؟    اس طرح کے اہم اہم سوالات  ہیں جو  آج ہم پرقرض ہیں جن کے درست جوابات نئ نسل کو ...