یاد رکھاجائیگا

 بیتی یادیں 



 آج کا دن اہل خانہ ہی نہیں اہل دیوبند کے لئے ایک سانحہ  کی طرح یاد رکھا جائگا ۔جد امجد ، مشفق دادا ہم سب کے ابا جی اور معروف عالم دین حضرت مولانا قاری طیب  صاحب رحمت للّٰہ علیہ  کی  بیرونی نشست گاہ کو آج منہدم کیا جا رہا ہے ۔  اس یادگار عمارت کو توڑ کر یہاں  ایک بازار بنایا جائگا ۔  دروازہ کے سامنے کھڑے ہوکر عمارت کے انہدام کا یہ نظارہ دیکھنے والے لوگوں کے دلوں کا حال انکے چہروں اور ڈب ڈبائ ہوی آنکھوں سے عیاں ہے ۔ مسلسل آنے والے فون لوگوں کی تاثرات کے غماز ہیں ۔ 

آج کا دن  ان کے لئے ایک سانحہ ہے ۔ 



دیوبند میں ہی نہیں بلکہ حضرت کے خاص حلقہ اورعمومی طور پرمدرسہ  سے  وابستہ لوگوں کے درمیان  یہ جگہ عرف عام میں   بیٹھک کے نام سے جانی  جاتی تھی۔  نہ صرف  دیوبند کی شناخت کا اہم جز بلکہ دارالعلوم دیوبند آنے والے لوگوں کے لئے بھی ایک متبرک مقام کی حیثیت رکھتی تھی کہ یہاں سے علم کا ایک ایسا دور شروع ہوا تھا جو کہ کئ دہائیوں تک جاری و ساری  رہا اور جس کے طفیل سے دین اور عمل کی دنیا ابھی تک سیراب ہوتی چلی آرہی ہے ۔  اباجی کے   انتقال کو طویل عرصہ گزر گیا لیکن اس کے بعد والد محترم مولانا اسلم قاسمی کی علمی نشستیں  یہاں جاری رہیں ۔ابا جی رحمت اللہ علیہ  ، مولانا سالم قاسمی رحمت اللہ علیہ اور والد محترم کی عام و خاص حضرات سے ملاقات سے لیکر ان لوگوں کےجنازے اور آخری دیدار کے لئے آنےوالے لوگوں کےہجوم کی امین یہ نشست گاہ اب منہدم کی جارہی ہے ۔ آج کا دن صرف اہل خانہ ہی نہیں بلکہ حضرت کے تمام جانثاروں کے لئے سخت ہے ۔


 

متعلقین اور متوسلین  کے لئے  سوحان روح  ہے کہ دیوبند جو گزشتہ ایک صدی سے گہوارہ علمی کی حیثیت سے دینی حلقوں میں مرکزی حیثیت کا حامل ہے  اس دیوبند کو  اس مقام پر لانے والی اور دیوبند  کو دیوبند بنانےوالی شخصیت کی قیام گاہ کو توڑ کر ایک بازار میں بدل دیا جائگا ۔ 

کاش کہ اس بیٹھک کو حضرت والا کے شایان شان استعمال کا بندوبست کر دیا جاتا ۔ بہترین خراج عقیدت ہوتا  کہ حضرت کی یہ نشست گاہ ایک علمی مرکز میں بدل دی جاتی ۔  اس بیٹھک کو اہل علم یا پھر  دار العلوم کے حوالے کیا جاتا اور یہاں حدیث اور قرآن اور علم کے دور,  یوں ہی چلتے کہ  بہر حال  یہ گھر دیوبند کو دیوبند  بنانے والی ہستی اور علم عمل کی ایسی مثالی شخصیت کا گھر  ہے جسے لوگ آج بھی عقیدت کے ساتھ  دور دراز سے دیکھنے  آتے تھے ۔




 آنے والے چند دنوں میں ابا جی کی اس  یاد گار  کا نشان ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائگابچے کچے خاندان کے لوگوں کا عزم ہے کہ  حضرت کی اندرونی قیام گاہ کو کسی بھی مالی منفعت کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اسکا خاندانی تشخیص اور آبائ ورسہ ہمیشہ  برقرار رکھا جائگا ۔ انشا اللہ ۔


رہے نام باقی بس اللہ  کا ۔ 

——


تبصرے

  1. یقینا قلب و جگر کو اضطراب میں ڈالنے والی کار روائی ہے۔لیکن اگر ماضی کے جھروکوں سے دیکھا جائے تو ہمیں نہ خلیفہءاول کی نشست گا نظر آتی ہے اور نہ ہی خلیفہء ثانی ثالث،رابع کی۔ اور اسی پر نظر رکھنے سے صبروتسلی حاصل ہوگی اور دردوالم کا مداوا ہوگا اللہ پاک حضرت قاری محمد طیب رحمہ اللہ کے درجات بلند فرمائے اور علمی دینی وروحانی سلسلہ ان کی ذات سے جاری ہوا ہے اللہ پاک اسے رہتی دنیا تک جاری وقائم رکھے آمین ثم آمین یا رب العالمین
    کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام

    جواب دیںحذف کریں
  2. بیشک بیشک
    آمین یارب العالمین
    جزاک اللہ خیراً

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آج دعوتِ دین کاشرعی حکم

ایک ضروری وضاحت

انتہائ اقدام