انتہائ اقدام
* حسرت اور غم کی داستاں* یہ جو بندگانِ نیاز ہیں ، یہ تمام ہیں وہ لشکری جنہیں زندگی نے اماں نہ دی تو تیرے حضور میں آ گئے وہ جو گیت تم نے سنا نہیں ، میری عمر بھر کا ریاض تھا میرے درد کی تھی داستاں ، جسے تم ہنسی میں اڑا گئے وہ چراغِ جاں کبھی جس کی لو نہ کسی ہوا سے نگوں ھُوئی تیری بیوفائی کے وَسوسے ، اُسے چپکے چپکے بجھا گئے حالات کی چکی بعض دفعہ آہنی جسم انسان کوبھی اتنامجبور کردیتی ہے کہ وہ زندگی کی بازی ہارنے کو تیار ہو جاتاہے انسان کتناہی مضبوط کیوں نہ ہوحالات کاشکنجہ جب اسے دبوچتاہے تواسکے اعصاب جواب دے جاتے ہیں پیہم آزمائش ، نفرت ، ظلم ، ایک اچھے خاصے انسان کوجیتے جی ماردیتے ہیں اور جب بات ایک معصوم کلی کی ہو جودنیامیں اسلیے کھلی تھی کہ ماں باپ بہن بھائ رشتہ دار ہرایک کو اپنی مسکراہٹ سے راحت پہنچاے سکون کے پھول نچھاور کرے ظلم پرظلم کاجواب خندہ پیشانی مسکراتے چہرے سے دے آخر اچانک اس معصوم کلی کو کیاہوجاتاہے کہ دنیاسے روٹھ جاتی ہے ایسا کونسا ستم اس پر کیاجاتاہے جس کی تاب نہ لاکر وہ موم جیسی نرم اور پھول جیسی خوشبودار کلی مرجھانے...