مکہ میں دعوتِ دین کاشرعی حکم
مکہ مکرمہ میں دعوتِ اسلام کا شرعی حکم
قسط اول !
قرآنِ کریم کے ا سلوبِ بیان اورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی ومدنی ادوار پر غورکرنے سے یہی نتیجہ نکلتاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دعوتِ دین مختلف درجات میں فرض ہوئ مکہ میں دعوتِ اسلام کا درجہ کچھ اور تھا اور مدینہ میں کچھ اور اور اس کے بعد امتِ مسلمہ پر دعوت کادرجہ کچھ اور ہوا اسی بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے آجکل امتِ مسلمہ کے بہت سارے افراد کو غلط فہمی ہوئ ہے اور وہ ہروقت دعوت اسلام کے ترک کا واویلا مچاتے ہیں اور یوں کہتے نظرآتے ہیں کہ ہم نے دعوت کا کام نہیں کیا اور جوحضرات یہ کام کرتے بھی ہیں وہ حضرات نہ کرنے والوں کو مورد الزام ٹہراتے ہیں آپ خودسوچیے آخراس فلسفہ دعوت کو سیرت کی روشنی میں اور فقہاءکرام کی مکتوبہ کتابوں کی روشنی میں کیا ہم نے سمجھنے کی کوشش کی ؟ اسی طرح اسلاف کی چودہ سوسالہ زندگیوں میں یہ دعوت کیا اسی طرح فرض سمجھی جاتی تھی؟ کیا ہم پربھی آج دعوت توحید فرض عین ہے؟
اس طرح کے اہم اہم سوالات ہیں جو آج ہم پرقرض ہیں جن کے درست جوابات نئ نسل کو بتاناہماری ذمہ داری ہے اسی قسم کے اشکالات کے جوابات دینے کی ہم ان شاء اللہ کوشش کریں گے اور آپ کو بتائیں گے آخرامت کی ذلت کس کام کے کرنے سے دور ہوگی اور ہمارا مقصودی کام کیا ہے جس سے ہم غافل ہیں ۔
چنانچہ پہلی بات یہ سمجھ لیجیے کہ مکہ دعوت فرض عین تھی اسی سلسلہ کی شہادت قرآن کریم کی بیشمارآیات پیس کرتی ہیں جن آیات میں کفار کو توحید کی دعوت دینے کی ترغیب دی گئ ہے چند آیات بطور مشتے نمونہ ازخروارےہم پیش کرتے ہیں ۔
ابتدامیں سورہ مدثرکی آیت نازل ہوئ جسمیں اللہ نے فرمایا قُم فَانْذِر اے پیغمبر کھڑے ہوجائیے اور لوگوں کو ڈرائیے اس طرح کی اور بھی آیات ہیںوداعیاًالی اللہ باذنہ وسراجامنیراالآیۃ قل ھذہ سبیلی ادعوا الی اللہ الآیۃ ومن احسن قولاً ممن دعا الی وعمل صالحاالآيۃ یہ اور اس طرح کی سینکڑوں آیات ہیں جن سے مکہ میں دعوتِ توحید ایک فریضہ ثابت ہوتی ہے چنانچہ ان ساری آیات کے نزول کےبعد کفار کو دعوتِ توحید فرض عین ہوگئ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی دعوت دینی شروع فرمائ چونکہ دنیامیں اس وقت کوئ مسلمان ہی نہیں تھا افراد کی سخت ضرورت تھی ایک مجموعہ اور گروہ درکارتھا ایسی جماعت اسلام میں داخل ہونے والے افراد سے ہی تیار ہونی تھی اسلیے یہ دعوت جو فرض کی گئ تھی اس کا مقصدمسلمان بنانامتعین ہوا تھا تاکہ افراد کا ایک مجموعہ تیار ہوجاے اور اسلام کا عدل و انصاف والانظام دنیا پربآسانی قائم ہوسکے یہی وجہ ہے کہ مکہ میں دعوتِ توحید کے الفاظ کچھ اس طرح تھے قُوْلُوْالَااِلٰہَ اِلَّا اللہ تُفْلِحُونَ کہ توحید کے اقرار میں ہی تمہاری کامیابی مضمرہے اسلیے کلمہ توحید کا اقرارکیجیے ان کلمات پر غورکرنے سے پتہ چلتاہے مکہ میں جو دعوت دیجاتی تھی اس کا مقصدمحض مسلمان بناناہی تھا اور کوئ مقصد نہیں تھا چنانچہ قرآنِ کریم کی آیات میں مکہ کی دعوت کے سلسلہ میں مسلمانوں کوایک حکم دعوت دینے کاتھا کااور دوسرے نہ ماننے والوں سے اعراض یعنی منہ موڑنے کا حکم تھا اور بس اس سے زیادہ اور کچھ نہیں تھا آپ جانتے ہیں چونکہ مکہ میں جہاد کی فرضیت ہی نہیں ہوئ تھی اسلیے فقط دعوتِ توحید فرض تھی یہاں ایک اور بات بھی ذہن نشیں رہے کہ مکہ کی یہ دعوت انفرادی طور پر دیجاتی تھی اجتماعی شکل میں دعوت فرض نہیں تھی تاآنکہ مکہ والوں کو دعوت پہنچاکر پیغمبرعلیہ السلام نے حجت تمام کردی اور پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف تشریف لے گئے وہاں سے واپسی کے بعد پھر آپ پر ہجرت فرض کی گئ مکہ کی مکمل تیری سالہ زندگی میں دعوت توحید کا شرعی درجہ اور اس کا مقصد اور اسکی ادائیگی کا طریقہ اگر ہم سمجھناچاہیں توتین باتیں نکلتی ہے ۱ ) شرعی درجہ فرض عین ۲ ) مقصد مسلمان بنانا ۳ ) طریقہ کار انفرادی دعوت کاتھا ،
مدینہ منورہ میں دعوت توحید کا شرعی درجہ اور مقصد اور طریقہ کار ان شاء اللہ آنے والی قسط میں پیش کیاجائیگا ۔
جاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماشاء اللہ
جواب دیںحذف کریںاللہ تعالیٰ قبول فرمائے
یہ کام وقت کی اہم ضرورت ہے
اللہ اپ کی اس دین کی خدمت کو قابلے قبول کریں اللہ ہم سے بھی دین کے کام لے اور ہم سب سے راضی ہو جاۓ امین یارب العالمین.
جواب دیںحذف کریں