آج دعوتِ دین کاشرعی حکم
آج کے دور میں دعوتِ دین کاشرعی حکم !
گزشتہ قسطوں میں ہم نے واضح کیاتھا کہ دعوتِ دین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین پر مختلف درجات میں فرض ہوئ تھی مکہ مکرمہ میں فرضِ عین اور انفرادی اور مدینہ منورہ میں فرضِ کفایہ اور اجتماعی آج کی قسط میں ہمارا مقصود اس دور میں دعوتِ دین کاشرعی درجہ واضح کرنا ہے اگرآپ نے پچھلی قسطیں ملاحظہ فرمائ ہوگی تویہ بات آپ جان چکے ہوں گے کہ مدینہ منورہ میں جہاد ہی دعوت کی جدید شکل تھی اور ہم نے یہ بھی واضح کیاتھا کہ جہاد سے قبل بطوراتمامِ حجت چنددعوتی کلمات پیش کیے جاتے تھے تاکہ اگروہ قوم مسلمان ہوجاے توامن وامان سے خلافت کا قیام ہوسکے ان کلمات کی مختصر تشریح پچھلی قسط میں ہم نےبیان کی تھی انہیں کلمات سے حجت پوری ہوتی ہے اور اسی کودعوت کہتے ہیں اس کے بعد ہی اس قوم پر حملہ آور ہونادرست ہوتاہے سوال یہ پیدا ہوتاہے کی جودعوت جہاد سے پہلے کفار کودینی ہوتی ہے کیاآج کے دور میں ہم پر وہ دعوت فرض ہیں؟ اور اگر ہم لشکری شکل میں کہیں حملہ آور نہ ہو اپنی عبادات اور کسی دینی کام میں مصروف ہیں جہاد نہ کررہے ہوتوکیا اس حال میں بھی کفار کو دعوت دیناہم پر فرض رہے گا ؟ اور اگر ہم نے کفارکودعوت نہیں دی توکیا قیامت میں ہماری پکڑہوگی؟ ان سوالات کے جوابات دینے کی ان شاء اللہ ہم کوشش کریں گے دراصل یہ سوالات اسلئے پیداہوے کہ آج بہت سے مسلمان یہ کہتے نظرآتے ہیں کہ دعوتِ اسلام فرض ہے مسلمانوں نے کفارتک دین نہیں پہنچایا ہے اسی وجہ سے مسلمانوں پریہ حالات اور مصائب آے ہوے ہیں ہمیں یہ سمجھنا ہیں کیاواقعی دعوت کااہم فریضہ ہم نے چھوڑا ہوا ہے جس کے نتیجہ میں یہ حالات ہم پر طاری ہیں؟ کیا جمہور فقہاء کرام وعلماء عظام بھی یہی سمجھتے تھے ؟ ان مختلف شبہات کے جوابات ہم پیش کرناچاہتے ہیں اور اُس اہم کی جانب امت مسلمہ کی توجہ مرکوز کرناچاہتے ہیں جس سے حقیقتاً اسلام کا غلبہ ہوتاہے ۔
اس سے پہلےکہ ہم دعوت کا شرعی حکم بیان کریں پہلے دعوت قسمیں بیان کرناضروری ہےیاد رکھیے دعوت پہنچانے کی دوقسمیں ہیں جس کے ہم مکلف ہیں ایک دعوتِ حقیقی دوسرے دعوتِ حکمی اسی طرح یہ سمجھنابھی ضروری ہےکہ دعوت تفصیلات کے ساتھ پہنچاناضروری ہے یا مختصراً (اجمالاً ) ہرایک کی مختصر تشریح کرتے ہیں دعوت ِ حقیقی کا مطلب ہے کفارکوبراہِ راست آمنےسامنے دعوت دیجائ مثلاً مسلمانوں کا امیرِِ لشکر کفار کے سرادر سے براہِ راست یوں کہے اَسْلِمُوا تَسْلَمواَ اسلام قبول کیجئے امن وامان پاوگے اسے دعوتِ حقیقی کہتے ہیں اور دعوتِ حکمی کامطلب ہے کفار کو اسلام کے بارے میں کسی بھی طرح مختصراً اطلاع مل جاے چاہے جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعہ چاہے ہمارالشکرکسی علاقہ کوفتح کرلے اور وہاں کے باشندوں کوعلم ہوجاے کہ مسلمان کیاعقیدہ رکھتے ہیں بس موٹی موٹی باتیں انہیں معلوم ہوجاے تو دعوت حکمی ہوجاتی ہے اسی طرح اورکسی بھی ذریعہ سے کفار کو اسلام کی اطلاع پہنچ جاے تو اسے دعوت کاحکماً پہنچناکہاجاتاہے ۔ چلیے اب بڑھتے ہیں اصل موضوع کی جانب !
پہلی بات آج کے دور میں دعوتِ اسلام فرض ہے یا نہیں اس سلسلہ میں سب سے پہلے ہم جامع ترمذی کی ایک روایت پیش کرتےہیں ۔
عن ابي البختري " ان جيشا من جيوش المسلمين كان اميرهم سلمان الفارسي حاصروا قصرا من قصور فارس، فقالوا: يا ابا عبد الله، الا ننهد إليهم؟ قال: دعوني ادعهم كما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعوهم، فاتاهم سلمان، فقال لهم: إنما انا رجل منكم فارسي، ترون العرب يطيعونني، فإن اسلمتم، فلكم مثل الذي لنا وعليكم مثل الذي علينا، وإن ابيتم إلا دينكم، تركناكم عليه، واعطونا الجزية عن يد وانتم صاغرون، قال: ورطن إليهم بالفارسية: وانتم غير محمودين، وإن ابيتم، نابذناكم على سواء، قالوا: ما نحن بالذي نعطي الجزية، ولكنا نقاتلكم، فقالوا: يا ابا عبد الله، الا ننهد إليهم؟ قال: لا، فدعاهم ثلاثة ايام إلى مثل هذا، ثم قال: انهدوا إليهم، قال: فنهدنا إليهم، ففتحنا ذلك القصر، قال: وفي الباب، عن بريدة، والنعمان بن مقرن، وابن عمر، وابن عباس، وحديث سلمان، حديث حسن لا نعرفه إلا من حديث عطاء بن السائب، وسمعت محمدا، يقول: ابو البختري لم يدرك سلمان، لانه لم يدرك عليا، وسلمان مات قبل علي، وقد ذهب بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم إلى هذا، وراوا ان يدعوا قبل القتال، وهو قول إسحاق بن إبراهيم، قال: إن تقدم إليهم في الدعوة فحسن، يكون ذلك اهيب، وقال بعض اهل العلم: لا دعوة اليوم، وقال احمد: لا اعرف اليوم احدا يدعى، وقال الشافعي: لا يقاتل العدو حتى يدعوا، إلا ان يعجلوا عن ذلك، فإن لم يفعل، فقد بلغتهم الدعوة.
ابوالبختری سعید بن فیروز سے روایت ہے کہ مسلمانوں کے ایک لشکر نے جس کے امیر سلمان فارسی تھے، فارس کے ایک قلعہ کا محاصرہ کیا، لوگوں نے کہا: ابوعبداللہ! کیا ہم ان پر حملہ نہ کر دیں؟، انہوں نے کہا: مجھے چھوڑ دو میں ان کافروں کو اسلام کی دعوت اسی طرح دوں جیسا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں دعوت دیتے ہوئے سنا ہے ۱؎، چنانچہ سلمان فارسی رضی الله عنہ ان کے پاس گئے، اور کافروں سے کہا: میں تمہاری ہی قوم فارس کا رہنے والا ایک آدمی ہوں، تم دیکھ رہے ہو عرب میری اطاعت کرتے ہیں، اگر تم اسلام قبول کرو گے تو تمہارے لیے وہی حقوق ہوں گے جو ہمارے لیے ہیں، اور تمہارے اوپر وہی ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو ہمارے اوپر ہیں، اور اگر تم اپنے دین ہی پر قائم رہنا چاہتے ہو تو ہم اسی پر تم کو چھوڑ دیں گے، اور تم ذلیل و خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کرو ۲؎، سلمان فارسی رضی الله عنہ نے اس بات کو فارسی زبان میں بھی بیان کیا، اور یہ بھی کہا: تم قابل تعریف لوگ نہیں ہو، اور اگر تم نے انکار کیا تو ہم تم سے (حق پر) جنگ کریں گے، ان لوگوں نے جواب دیا: ہم وہ نہیں ہیں کہ جزیہ دیں، بلکہ تم سے جنگ کریں گے، مسلمانوں نے کہا: ابوعبداللہ! کیا ہم ان پر حملہ نہ کر دیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے تین دن تک اسی طرح ان کو اسلام کی دعوت دی، پھر مسلمانوں سے کہا: ان پر حملہ کرو، ہم لوگوں نے ان پر حملہ کیا اور اس قلعہ کو فتح کر لیا۔
اس روایت کے تحت امام ترمذی ؒ کفار کودعوت دینے کے سلسلہ میں فقہاء کرام کے مختلف اقوال نقل فرماتے ہیں !
۱ )بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کی یہی رائے ہے کہ قتال سے پہلے کافروں کو دعوت دی جائے گی، اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے کہ اگر ان کو پہلے اسلام کی دعوت دے دی جائے تو بہتر ہے، یہ ان کے لیے خوف کا باعث ہو گا،
۲) بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس دور میں دعوت کی ضرورت نہیں ہے، امام احمد کہتے ہیں: میں اس زمانے میں کسی کو دعوت دئیے جانے کے لائق نہیں سمجھتا،
۳ ) امام شافعی کہتے ہیں: دعوت سے پہلے دشمنوں سے جنگ نہ شروع کی جائے، ہاں اگر کفار خود جنگ میں پہل کر بیٹھیں تو اس صورت میں اگر دعوت نہ دی گئی تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اسلام کی دعوت ان تک پہنچ چکی ہے
اسی طرح امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب الام میں بھی یہی فرماتے ہیں ملاحظہ کیجیے
’’کفار کو اسلام اور جزیہ کی دعوت دینا اسی صورت میں لازم ہے کہ انہیں پہلے سے دعوت نہ پہنچی ہو البتہ جب پہنچ چکی ہو، تو انہیں دعوت دیے بغیر قتال کرنا جائز ہے
( خیال رہے فقہاء کرام کے یہاں حکماً دعوت پہنچناکافی تھا ) ‘‘ اسی ذیل میں امام شافعی ؒ آگے فرماتے ہیں:
’’ولا اعلم احدا لم تبلغہ الدعوۃ الیوم الا ان یکون عن وراء عدونا الذین یقاتلون امۃ من المشرکین ‘‘ ( الاُم )
ترجمہ ! میرے علم کے مطابق اس زمانے میں کوئی کافر قوم ایسی نہیں جسے دعوت نہ پہنچ چکی ہو۔ الا یہ کہ مشرکین کی کوئی ایسی جماعت ہو جو ہم سے قتال کرنے والے دشمنوں کے پیچھے رہتی ہو اور اس تک دعوت نہ پہنچ سکی ہو ،
یہ ہے جلیل القدرمجتہد امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ جواپنے زمانے کے احوال بیان فرما رہے ہیں جس دور میں ذرائع ابلاغ نہ اس قدر عام تھے اور نہ وہاں اتنی کثرت سےآمدروفت کے وسائل دستیاب تھے اور نہ ہی تیزبرقی آلات اور انٹرنیٹ شوشل میڈیا الیکٹرانک میڈیا وغیرہ تھے لیکن حضرت امام شافعی ؒ فرماتے ہیں دنیاکاکوئ علاقہ ایسانہیں جہاں اسلام کی دعوت نہ پہنچی ہو حضرت کی اس بات سے اندازہ ہوتاہے فقہاءکرام کے نزدیک جہاد ہی دعوت تھا اور چونکہ سوہجری کے قریب ہی دنیاکے بیشترعلاقوں میں مسلمانوں کے لشکرپہنچ چکے تھے تودعوت بھی ساتھ ہی پہنچ چکی تھی اور ان فقہاء کرام کازمانہ اس کے بھی ایک سوسال بعد کاہے یعنی دوسوہجری کے بعد کے حالات یہ بیان فرمارہے ہیں تبتک تو فتوحات اور بھی زیادہ ہوچکی تھی آپ خود فیصلہ فرمائیے اُس دور میں جب دعوت پہنچ چکی تھی تو آج کے دور میں جبکہ دنیا ایک محلہ بنی ہوئ ہیں جدید ذرائع ابلاغ اور میڈیاکادور ہے کیا دعوت کاپہنچنا پھر بھی باقی ہے ؟کوئ نادان ہی یہ بات کہ سکتاہے اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے تفصیلی دعوت پہنچانے کو دعوت پہنچاناسمجھاہوا ہے اور الگ الگ ایک ایک فرد کودعوت دیناضروری سمجھاہوا ہے جوکہ غلط ہے یہی غلط فہمی آج بہت سارے مسلمانوں کو ہوئ ہے جس کے نتیجہ میں وہ دعوت کے پرجوش حامی بنے ہوے ہیں اور جو ان جیساکام نہیں کرتاہے وہ اس کوملامت کرتے ہیں اور دعوت دین کو آج بھی فرض کہتے ہیں اس سلسلہ میں فقہاءکرام کا کیا موقف ہے آئیے وہ جانتے ہیں ۔
ائمہ کرام کے اقوال
نوٹ ! یہاں یہ بات ذہن نشیں رہے یہ سارے اقوال اس صورت میں ہے جب ہم کفار پر حملہ آورہو یعنی یہ دعوت اقدامی جہاد کی صورت میں ہےاگر کفار ہم پر ہمارے کسی علاقہ پر حملہ کریں تو تمام علماءکرام کا اتفاق ہے اس وقت دعوت ساقط ہوتی ہے فقط دفاع اور قتال واجب ہوتا ہے آج کے دور میں کہیں بھی اقدامی جہاد نہیں ہورہا ہے سب جگہ دفاع کی لڑائ جاری ہے ۔
جمہورفقہاء کرام کا اس دور میں دعوت کے بارے میں موقف
" جمہور فقہاءکرام کاکہنایہ ہے اب دنیاکے تمام خطوں میں اسلام کی دعوت عام پہنچ چکی ہے کیونکہ دنیا کا کوئ آدمی اب ایسانہیں رہا جونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے لاے ہوے دین سے بحیثیتِ اجمالی واقف نہ ہولہذا اب کسی بھی جگہ جہاد سےپہلے دعوت دیناشرط نہیں البتہ مستحب ہے دعوت دئیے بغیر بھی اگرجہاد کیاجاےتووہ جائز ہوگاناجائز نہیں ہوگا " ( کتاب السیر تقریرترمذی ص ۲۱۹ )
آگے اسی ذیل میں فرماتے ہیں !!
" اس سے معلوم ہواکہ جودعوت مسلمانوں کے ذمہ فرض ہے وہ پہنچ چکی ہے وہ یہ ہے کہ غیرمسلموں کو یہ پتہ لگ جاے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول تھے اور آپ نے توحید کی دعوت دی اور آپ یہ دینِ اسلام لیکرتشریف لاے اگراتنی بات بھی اجمالی طور پر پہنچ گئ ہے تودعوت کافریضہ اداہوگیا ۔ اب ہرہرفردکوالگ الگ دعوت دینایہ کوئ فرض نہیں آج کل یہ تصورمشکل ہے کہ کوئ فرد ایساہو جس کو اسلام کے بارے میں اجمالی دعوت نہ پہنچی ہو حتی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے زمانے میں بھی ایسافرد نہیں تھا ۔ اسلیے کہ یہ بات توسب کو معلوم ہوگئ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا دعوی کیاہے اور آپ توحید کی دعوت دیتے ہیں اتنی بات توسب جانتے تھے اس لیے وہ لوگ معذورنہیں سمجھے جائیں گے ۔
آگے اسی ذیل میں آج کے دورکے دعوتی کام کے علماء وعوام کی غلط فہمی دور کرتے ہوے حضرت مفتی تقی عثمانی مدظلہ فرماتے ہیں ! !
" ایک بے اعتدالی آج کے دور کی یہ بھی ہے کہ ایک ایک فرد کوالگ الگ جاکر دعوت دینافرض سمجھاجاتاہے اور یہ کہاجاتاہے کہ اگرتم نے جاکردعوت نہیں دی توقیامت کے دن کفار تمہارے گریبان پکڑیں گے ۔ حالانکہ ایک ایک فردکوالگ الگ جاکردعوت دینافرض نہیں ہے " ( مفتی صاحب کی گفتگوختم ہوئ )
آپ نے اس دور میں جمہور فقہاءکرام کاموقف جان لیاکہ اس دور میں کفار کودعوت دینافرض نہیں محض مستحب ہے اور حضرت مفتی تقی عثمانی مدظلہ العالی نے اس دور کے ان داعیان دین کی غلط فہمی بھی دورفرمائ ہے جو دعوت کوہروقت فرض بتاتے نہیں تھکتے ہیں ایسے حضرات کویہ حکم اچھی طرح سمجھناچاہیے کہ اس دور میں دعوت کی حجت پہلے سے زیادہ پوری ہوچکی ہے رہی بات ہرفرد تک دعوت پہنچانے کی تویادرکھیے شریعت میں مدنی دور کے بعد یعنی اجتماعی دعوت جہاد کی شکل میں فرض ہونے کے بعد ایک ایک فرد تک دعوت دین فرض نہیں رہی ہے اور وہ ممکن بھی نہیں ہے اجمالی دعوت کافی ہے یہی وجہ ہے محدثین مفسرین اور فقہاء کرام میں سے کسی نے بھی کفارکے افراد کوانفرادی دعوت دینے کا مشن نہیں اپنایا یعنی مقصد بناکرکسی نے بھی یہ کام نہیں کیاکیوں نہیں کیا ہے؟ اسکی وجہ یہی ہے کہ وہ اہل علم تھے انہیں اس کا شرعی حکم معلوم تھاکہ یہ مستحب ہے ( مستحب کام وہ ہوتاہے جس کے کرنے پر ثواب اور نہ کرنے پر کوئ گناہ نہیں ہوتا ہے ) اور انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ یہ دعوت اقدامی جہاد ( یعنی جب ہم کسی علاقہ پر حملہ کریں ) تو اس سے پہلے یہ دعوت دیجاتی ہے خلاصہ یہ ہوا کہ جہاد سے پہلے دعوت مستحب ہے فرض نہیں ہے جب یہی دعوت فرض نہیں ہے تو آپ بتلائیے عام حالات میں کفار کو دعوت دینا کیسے فرض ہوسکتاہے؟ پتہ چلاہروقت اس دعوت کادرجہ مستحب ہی ہے چاہے لشکرکیساتھ دیں یا ویسے ہی کسی کافرکودعوت دینی چاہے دونوں حالات میں اس دعوت کا حکم مستحب ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ! اس کامطلب یہ ہرگز نہیں کہ کفار کودعوت دینا ہمارے نزدیک اچھانہیں ہرگز یہ بات نہیں ہے ہم صرف اتنی بات عرض کرناچاہتے ہیں جولوگ اسے فرض یافریضہ بناکر پیش کرتے ہیں اور سب سے اہم کام ثابت کرتے ہیں اور اس دعوت کے چھوڑنے کو اللہ کے عذابات نازل ہونے کاسبب بتاتے ہیں ان کی یہ تمام باتیں درست نہیں ہے شریعت میں مستحب اسے کہتے ہیں جس چھوڑنے پرکوئ گناہ نہیں ہوتاہے اور نہ ہی مستحب کے چھوڑنے سے کوئ عذاب اترتاہے ہرکام کو اس کے شرعی درجہ پر رکھناضروری ہے جولوگ دعوت کو فرض کہتے ہیں ان کاعقیدہ اس مسئلہ میں خراب ہوچکاہے کسی بھی فقہی کتاب میں دیکھیے فقہاء کرام نے مستحب کو اس کے درجہ سے بڑھاکر فرض سمجھنے والے کے بارے میں کیا لکھاہے فقہی اصول ہے کسی بھی چیز کواسکے درجہ سے بڑھانا اور گھٹانا دونوں ناجائز ہے بدعت تک بن سکتے ہیں اسلیے ہماری گزارش ہے آج کے دور میں امت مسلمہ کا مسئلہ یہ ہرگز نہیں ہے کہ اس نے دعوت کا کام نہیں کیا اسلیے یہ حالات اور مسائل درپیش ہیں بالکل نہیں دعوت تو بہت پہلے پہنچ چکی ہے ایک اہم واجب امت نے چھوڑاہوا ہے ہم نے پچھلی قسط میں عرض کیاتھا مدینہ منورہ میں جانے کے بعد قیام خلافت مقصود بن گیا تھا مدینہ میں چونکہ خلافت تھی دوسرے علاقوں میں قائم کرنافرض کفایہ تھا افسوس ہم جس دور میں جی رہے ہیں دنیا میں کہیں خلافت قائم نہیں ہے جس کا قیام واجب ہے اس واجب کوچھوڑ کر ہم اللہ کی نظروں سے گرے ہیں اور مصائب پستی اور حالات کا شکار ہیں اسی کوترک کرنے کی وجہ سے عذابات نازل ہوتے ہیں قرآن کریم نے صاف فرمایاہے اِلاَّ تَنْفِرُوا یُعَذِّبْکُم عَذَباً اَلِیماً کہ اگر قتال ترک کروگے جس کا مقصد قیام خلافت ہوتاہے تو دردناک عذاب دئیے جاوگے یعنی غلبہ دین واجب تھا جسے مجموعی طور پرامت نے چھوڑا ہواہے جبکہ قرآن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کامقصود اظہارِ دین یعنی غلبہ بیان کررہاہے وہ واجب ہے
اسی کو علامہ تفتازانی رحمہ اللہ شرح عقائد میں یوں لکھتے ہیں !
ثُمَّ الاِجْمَاعُ علیٰ اَنَّ نَصْبَ الاِمَامِ واجب سَمْعاً لِقَوْلِہ عَلَیہِ السَّلام مَنْ مَاتَ وَلَم یَعْرِف اِمَامَ زَمَانِہ فَقَدمَاتَ مِیْتَۃً جَاھِلِیَّۃ ۔
ترجمہ ! پھرامت کا اس بات پر اجماع ہے کہ خلیفہ وقت منتخب کرنا واجب ہے نقلی دلیل کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جواس حال میں مرگیا کہ اپنے زمانے کے خلیفہ کو نہیں جاناوہ جاہلیت کی موت مرا ۔ ( شرح عقائد ص ۱۵۳)
خلیفہ کا انتخاب واجب ہے تو خلافت کا قیام کتنا بڑاواجب ہوگا اسلام میں یہ تصور ہی نہیں رہاہے کہ پوری امت بغیر امیر کے رہے گی لیکن ہم افسوس اس کے عادی بن چکے ہیں ہم میں سے بہت سے احباب کویہ بھی پتہ نہیں کہ ہم غلامی کی ذلت میں جی رہے ہیں اور اسلام مغلوب ہے جس راستہ پر چل کر صحابہ کرام نے دنیا کے اکثر حصہ پر اسلام غالب کیا تھا آج ہم نے اپنے اپنے دین کے مختلف شعبہ تو اختیار کرلیے لیکن صحابہ جیسا مقصودی کا م نہیں اپنایا انہوں نے پہلے جزیرۃ العرب اورپھرسوسال میں دنیا کے اکثرحصہ پر فتوحات حاصل کی اور اسلام کو غالب کیا ہم نے ایک گلی تک پر اسلام غالب نہیں کیا کیا ہم اسی کام کے مکلف نہیں ہیں؟ بالکل مکلف ہیں لیکن ہم نے غفلت کی چادر ایسی تان لی ہے کہ ہمیں مقصودئ اور غیرمقصودی کام کا فرق نظرہی نہیں آرہاہے آج ہم غیر ضروری کاموں کو ضروری قرار دیے رہے ہیں وہ بھی ایسے کام جنہیں تاقیامت کیاجاے پھربھی غلبہ دین واستحکامِ شریعت نہیں ہوگا یہ بات بھی ذہن نشیں رہے کہ دین کا غلبہ کسی کومسلمان بنانے سے نہیں ہوتاہے بلکہ نظام اسلامی نافذکرنے اور خلافت کے قائم کرنے سے ہوتاہے ورنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم محض مسلمان بنانے کی محنت کرتے اتنے بڑے بڑے معرکے لڑنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی اسی غلط فہمی نے ہمیں مغلوب اور غلام بنایاہوا ہے خدارا قرآن کریم کی ان آیات پر غور کیجیے جن میں غلبہ دین کاذکر ہے اور اس غلبہ کیلیے وہی راستہ اپنائیے جونبی اور صحابہ کا ہے خوب غور کیجیے انہوں نے سوسال میں کس راستہ پر چل دین کو غالب کیا تھااور ہم نے کتناغالب کیا اللہ ہمیں صحیح سمجھ عطافرماے اور ہم سب کوبھی اسی راہ پر چلنا نصیب فرماے ۔ آمین ۔

اللہ قبول ومنظور فرماے
جواب دیںحذف کریںMAHALLAH
جواب دیںحذف کریںجزاك الله خيرا
جواب دیںحذف کریںآپ کے مضامین کا میں شدید منتظر ہوں
جواب دیںحذف کریں